ایک روز جلال الدین رومیؒ اپنے شاگردوں کو ساتھ لے کر ایک کھیت میں پہنچے۔ یہ ان کے پڑھانے اورعلم سکھا نے کا انداز تھا۔ وہ زندہ مقالوں کے ذریعے اپنے شاگردوں کو بڑی سے بڑی بات آسانی سے سمجھا دیا کرتے تھے،
اس لیے آج وہ اپنے شاگردوں کو لےکر ایک کھیت میں آئے تھے۔ ان کے شاگرد سوچ رہے تھے کہ آخر ایسا کون سا سبق ہے جو ہم مدرسے میں حاصل نہیں کر سکتے تھے اور جسے حاصل کرنے کے لیے ہم اتنی دور اس کھیت میں آئے ہیں۔ لیکن کھیت میں پہنچ کر جو سبق انہوں نے حاصل کیا اس نے تمام شاگردوں کو یہ سمجھا دیا کہ وہ غلط تھے اور ان کے استاد دُرست۔
اس کھیت میں ایک کسان بالکل کسی پاگل آدمی کی طرح زمین کھودنے میں مصروف تھا۔ دراصل وہ اپنے کھیت کے لیے ایک کنواں کھودنا چاہتا تھا مگر جب تھوڑی گہرائی تک زمین کھود کر پانی نہ نکلتا تو وہ اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ زمین کھودنے میں لگ جاتا اور اس طرح اُس کسان نے آٹھ جگہوں سے زمین کھود ڈالی تھی مگر حاصل اسے کچھ بھی نہ ہوا تھا۔ مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے شاگردوں سے پوچھا: کیا تم کچھ سمجھ سکتے ہو؟۔
تھوڑے وقفے کے بعد اپنے شاگردوں کی جانب دیکھ کر دوبارہ گویا ہوئے۔ ’’اگر یہ آدمی اپنی پوری طاقت، قوت اور وقت صرف ایک ہی کنواں کھودنے میں صرف کرتا تو ابھی تک کافی گہرائی میں جا کر اسے اپنی محنت کا پھل مل چکا ہوتا۔ ایک ہی جگہ اگر یہ کسان زمین کھودتا رہتا تو اب تک وہ پانی حاصل کر چکا ہوتا لیکن اس نے اس قدر محنت بھی کی اور حاصل حصول کچھ نہ ہوا جبکہ الٹا اس نے اپنا کھیت خود ہی اجاڑ دیا اور اُسے مایوسی الگ ہوئی۔ اگر ایسی محنت وہ صرف ایک ہی کنواں کھودنے میں صرف کرتا تو کب کا پانی حاصل کر چکا ہوتا۔‘‘
پھر وہ اپنے شاگردوں کی جانب پلٹے اور کہا :’ کیا تم لوگ بھی اس کسان کی پیروی کرنا چاہو گے کہ کبھی ایک راستے پر کبھی دوسرے راستے پر؟ کبھی ایک کی مانو گے کبھی دوسرے کی؟ کبھی کسی کی بات سنو گے کبھی کسی کی؟
اس طرح شاید تم بہت علم تو حاصل کر لو گے مگر وہ سارا علم بے کار ہوگا کیونکہ وہ علم نہ تو تمہیں روشن خیال بنا پائے گا اور نہ ہی تمہیں بصیرت دے پائے گا‘‘۔
ایک چھوٹے سے عمل سے مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے شاگردوں کو ایک بہت بڑا سبق دیا ہے۔
حکايت رومی!
No comments