Home Top Ad

Responsive Ads Here

اژدھا کی داستان

Share:
ہمارا نفس بھی ایک اژدھا ہے۔۔مولانا رومی کی ایک حکایت 

مولانا روم ایک سپیرے کی داستان بیان فرماتے ہیں۔۔۔ وہ سانپوں کی تلاش میں جنگلوں اور بیابانوں میں برفباری کے بعد سانپوں کی تلاش میں نکلا ۔۔
ایک جگہ اسے بہت بڑا مردہ اژدھا نظر آیا تو اس کے دل نے سوچا کہ اس کو کسی طرح شہر لے جاؤں اور اس پر ٹکٹ لگا دوں ‏تو بہت پیسے کماؤں گا ۔۔
تو پھر وہ بڑی مشکل اور تکلیف سے اس کو کھینچ کر شہر لے آیا 
لوگوں نے جب سنا تو شہر کا شہر امڈ آیا ۔ اژدھا جو اصل میں مردہ نہیں تھا برفباری میں ٹھنڈک کی وجہ سے اس کا جسم سن ہوگیا تھا ہجوم کی گرمی نے اور سورج کی حرارت نے اسے پھر سے  ٹھیک کر دیا اور اس نے ‏حرکت کرنا شروع کر دی۔
ہجوم نے جب یہ دیکھا تو تو بھاگ کھڑے ہوئے جس کا جدھر منہ ہوا دور پڑا ۔
سپیرا۔۔ جو اژدھے کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی بھاگنے کی کوشش کی تو اژدھے نے منہ کھولا اور سپیرے کو نگل لیا ، قریب ہی ایک بڑی عمارت میں بل کھا کر یوں زور لگایا کہ سپیرے کی ہڈیاں بھی سرمہ بن گئیں
مولانا روم یہ واقعہ سنا کے یوں فرماتے ہیں کہ
"ہمارا ‎نفس بھی ایک اژدھے ہی کی طرح ہے اسے کبھی مردہ تصور نہیں کرنا وسائل نہ ہونے کی بنا پر یہ ٹھٹھرا ہوا نظر آتا ہے۔"


No comments